کینیا کی ممباسا بندرگاہ پر پھنسے پاکستانی چاول کے 1300 کنٹینرز بالآخر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وزارت تجارت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وفاقی وزیر تجارت جام کمال کی مداخلت کے بعد یہ کنٹینرز رہا کیے گئے۔ وزارت تجارت نے بتایا کہ جام کمال کی جانب سے کینیا کی وزارت تجارت کے حکام کو ایک خط لکھا گیا تھا، جس میں بحیرہ احمر میں موجودہ صورت حال تاخیر کی وجہ بتائی گئی تھی۔ بحیرہ احمر کی موجودہ صورتحال کے باعث کارگو کا رخ موڑنے کی وجہ سے رکاوٹیں پیدا ہوئیں، جس کے نتیجے میں پاکستانی چاول کے کنٹینرز ممباسا کی بندرگاہ پر پھنس گئے تھے۔
جام کمال کی جانب سے لکھے گئے خط میں کینیا کی حکومت کو بحیرہ احمر کی موجودہ صورتحال کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات سے آگاہ کیا گیا تھا۔ اس خط کے بعد کینیا کی حکومت نے زیرو ریٹ پر 1300 کنٹینرز ریلیز کیے۔ کینیا حکومت نے پاکستانی چاول کو 30 نومبر 2024 تک زیرو ریٹ پر رسائی بھی دی ہے۔ اس اقدام سے پاکستانی چاول کی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ ملے گا۔ کینیا کی حکومت کا یہ تعاون پاکستانی تاجروں کے لیے ایک بڑا ریلیف ثابت ہوا ہے، جو طویل عرصے سے اپنے کنٹینرز کے چھوٹنے کے منتظر تھے۔
پاکستانی چاول کی برآمدات کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے، جس سے مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات مضبوط ہوں گے۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال کی مداخلت سے پاکستانی تاجروں کو نہ صرف اپنا چاول کینیا کے بازار میں پہنچانے کا موقع ملا ہے بلکہ اس سے پاکستانی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔ کینیا کی حکومت کی جانب سے پاکستانی چاول کو زیرو ریٹ پر رسائی دینے سے پاکستانی چاول کی مانگ میں اضافہ ہوگا اور برآمدات میں مزید بہتری آئے گی۔