Wise Pakistan

پاکستان کا تعلیمی نظام: دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ موازنہ

پاکستان کا تعلیمی نظام کئی پہلوؤں میں دنیا کے دیگر ممالک سے مختلف ہے۔ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک جیسے فن لینڈ، جنوبی کوریا اور کینیڈا کے تعلیمی نظام کا جائزہ لیں تو ہمیں واضح فرق نظر آتا ہے۔ ان ممالک میں تعلیم کو اولین ترجیح دی جاتی ہے، اور ان کے تعلیمی بجٹ کا بڑا حصہ تعلیمی نظام کی بہتری اور جدیدیت پر خرچ ہوتا ہے۔ فن لینڈ میں، مثلاً، اساتذہ کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور انہیں اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ اسی طرح، جنوبی کوریا میں طلباء کی تعلیم میں والدین اور معاشرتی تعاون بہت اہمیت رکھتا ہے، جس کی بدولت وہاں شرح خواندگی اور تعلیمی معیار بہت بلند ہے۔

پاکستان میں، تعلیمی نظام کو درپیش چیلنجز میں وسائل کی کمی، خستہ حال تعلیمی ادارے، اور اساتذہ کی مناسب تربیت کا فقدان شامل ہیں۔ ہمارے ہاں تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی ایک عام مسئلہ ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔ اس کے مقابلے میں، ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی ادارے جدید سہولیات سے آراستہ ہیں، جس سے طلباء کو ایک سازگار تعلیمی ماحول ملتا ہے۔ مزید برآں، نصاب میں بہتری اور تعلیمی تکنیکوں کا جدید استعمال بھی ترقی یافتہ ممالک کا خاصہ ہے، جبکہ پاکستان میں نصاب کی بہتری اور جدید تعلیمی طریقوں کا استعمال ابھی تک محدود ہے۔

تعلیمی نظام میں بہتری کے لئے ہمیں دیگر ممالک کے کامیاب تعلیمی ماڈلز سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرنا چاہئے اور تعلیمی اداروں کی تعمیر و مرمت پر توجہ دینی چاہئے۔ اساتذہ کی تربیت اور ان کی حوصلہ افزائی کے لئے اقدامات کرنا ضروری ہے تاکہ وہ جدید تعلیمی تکنیکوں کو بروئے کار لاتے ہوئے طلباء کی تعلیم میں بہتری لا سکیں۔ علاوہ ازیں، نجی شعبے کی شراکت داری اور بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون بھی پاکستان کے تعلیمی معیار کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی تعلیمی پالیسیوں اور عملی اقدامات کو اپنے نظام میں شامل کریں تو پاکستان بھی تعلیمی میدان میں نمایاں ترقی کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں