Trending

شرجیل انعام میمن کا بیان: سانحہ 1971ء اور عمران خان کی سیاست

سندھ کے سینئر وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ سانحہ 1971ء کے دوران پاکستان کے دو حصے ہوئے، اور عمران خان اس پر بھی سیاست کر رہے ہیں۔ انہوں نے قوم کو خبردار کیا ہے کہ وہ آنکھیں کھولے اور اس بھروپیے کو پہچانے۔

شرجیل انعام میمن نے اپنے بیان میں سانحہ 1971ء کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جس نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ اس وقت کے حالات اور واقعات نے ملک کو ایک بڑے بحران میں مبتلا کیا تھا اور اس کے بعد سے پاکستان نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ لیکن شرجیل میمن نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اہم قومی سانحے پر بھی سیاست کر رہے ہیں، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان اس حساس معاملے کو اپنے سیاسی مفادات کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ قوم کو اب آنکھیں کھولنی چاہئیں اور دیکھنا چاہیے کہ عمران خان کس طرح قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ماضی میں بھی مختلف مواقع پر اپنی سیاست کے لئے قومی معاملات کو استعمال کیا ہے اور یہ عمل ملک کے اتحاد و یکجہتی کے لئے نقصان دہ ہے۔ شرجیل میمن نے عوام سے اپیل کی کہ وہ عمران خان کے اصل چہرے کو پہچانیں اور اس کی سیاست کے خطرناک نتائج سے آگاہ رہیں۔

شرجیل انعام میمن نے قوم کو یاد دلایا کہ سانحہ 1971ء کے دوران ملک کو جو نقصان ہوا، وہ آج بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس سانحے سے سبق سیکھنا چاہئے اور ملک کو دوبارہ کسی بھی طرح کی تقسیم سے بچانا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی سیاست ملک کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے اور ہمیں متحد ہو کر اس بھروپیے کو بے نقاب کرنا چاہئے۔ شرجیل میمن نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک کی بھلائی کے لئے ایک ہو جائیں اور ایسے عناصر سے ہوشیار رہیں جو قومی وحدت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں