چین میں شادی کی روایت کو فروغ دینے کا نیا تعلیمی پروگرام

****

چین کی سول افیئرز یونیورسٹی نے ملک میں شادی کی روایت کو برقرار رکھنے اور شرح پیدائش بڑھانے کے لیے ایک نیا تعلیمی پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت طلبہ کو شادی کی ڈگری دی جائے گی تاکہ وہ شادی کے مثبت کلچر کو فروغ دیں اور اس صنعت میں پروفیشنلز کی کمی کو پورا کریں۔ اس اقدام کا مقصد شادی کرنے کی کم ہوتی ہوئی روایت کو بحال کرنا ہے اور ساتھ ہی شرح پیدائش میں اضافہ کرنا ہے۔ دارالحکومت بیجنگ میں قائم اس یونیورسٹی میں رواں برس ستمبر میں انڈر گریجویٹ ڈگری پروگرام شروع کیا جائے گا تاکہ ایسے پروفیشنلز تیار کیے جائیں جو شادی سے متعلق صنعت اور کلچر کو فروغ دیں۔

یہ پروگرام چین کے شادی اور خاندان کے مثبت کلچر کو نمایاں کرنے کے مقصد کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔ کورس کے ذریعے طلبہ اور عوام کو شادی کی روایت اور خاندان کے مثبت پہلوؤں کے بارے میں آگاہی دی جائے گی۔ میرٹ ڈگری پروگرام میں ابتدائی طور پر رواں برس 12 صوبوں سے 70 طلبہ کو داخلہ دیا جائے گا۔ اس کورس میں فیملی کونسلنگ، شادی کی منصوبہ بندی اور میچ میکنگ پروڈکٹس کا فروغ شامل کیا جائے گا اور اس کو میرج سروسز اینڈ مینجمنٹ کا نام دیا گیا ہے۔ اس اقدام سے امید کی جا رہی ہے کہ طلبہ اور عوام میں شادی کی اہمیت اور اس کے مثبت اثرات کے بارے میں شعور بیدار ہو گا۔

چین کی سول افیئرز یونیورسٹی کے نئے ڈگری پروگرام پر سوشل میڈیا میں مذمت کی جا رہی ہے۔ کئی صارفین اس کوشش کو بے سود قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے شادیوں کی شرح میں کمی روکنے میں مدد نہیں ملے گی۔ تاہم، یونیورسٹی کا ماننا ہے کہ یہ پروگرام نہ صرف شادی کی روایت کو فروغ دے گا بلکہ شرح پیدائش میں بھی اضافہ کرے گا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ نیا تعلیمی پروگرام واقعی چین میں شادی اور خاندان کے کلچر کو بحال کرنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔ اگرچہ سوشل میڈیا پر ملنے والی تنقید کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن چین کی حکومت اور سول افیئرز یونیورسٹی اس اقدام پر پُرامید ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں